Skip to main content

Full text of "Daawat Tarbiyat Aur Iqamat-e-Deen"

See other formats


پروفیس رخورشیراھ 
تھ جمان ال رآن:اپریل2015ء 


ق رن پا کک ہ رآیت بدلی تکا ٹم اور نو رکا رچچشمہ ہے۔ میہکتاب فن اور صرف تق کا ایک نہ خفک ہونے والاسحمندر ہے۔ یھی 
ا ق رآ نکامجزہ ک ےکہ ا لکی یک ای کآزیت میں الیے حا نک ھکوزے میں بن کرد ہاگ یاے مج نکاعمل احاعط ہم رانسائ یک لو ری 
تار ناو قوموں اور تہ یوں کے عرو نج وزوال لکی دیو ںکی داستا نب یکماحقہ نی سکم چائے۔الکیا جی ای کفآبیت میں فرداو رگرودہ 
1 7 (0100688) معاشر اور قوم ءمت اور انمانیت کے عم وج وزوال یناور پگاڑ تر ئی اور جا ل کا میا ی اورن اکا یقن 


کو سنت لی کے ایک بفیاد یی سک کی صورت میں یی ليکرد اگ 


ے 
+ھ+ 6 


۱ : 
اع الا یماوع تی یی فا یلال رعدا ا:۱۳ تقیقت یہ ےکہ الل کسی قوم کے حا لکو نمی بدتتاج بکک وو خوداپنے 
.و0 


:لی ف عون اوران سے پل کی قو مو ںکاؤک کرت ہو ای اصمو لکولوں جیا نکیاگیاے 


۱ ۰ <- کے را 7 7٠‏ 5 ہے جہ 
الانقال ۸:۵۳) میا کلاس سنت کے ) 0 ڈکک پاع اد رک م شا مھا عی وم تی اما پا ک رف 
۶ب "0" توم کو عطاکی ہو اس وق تکک یں بلاج کک کہ وہ قوم خوداپنے طر دن و نکی 


007" سی اور جا دوالے۔ 


۶۶۹۳ی 0 اکوقرارد اگیاے جو فرد یا قوم کے اندد و نکی پر کید ایر عادی ے۔ 00۳1۶ 
زین سے جہاں ۸۶ مکنتتا لک تم ر یی ہوثی سے اور چھر کی دوئ اور ہڑے جس سے تر اوزا نقلا بکاتاوردرخت مشوو نما پاتا 
ہے۔ تد پگی جس یرون عو ام لک اکر شمہ نجوس ہو نی ء یہاندر کے ای کگہرے اور ہمہ جبقی عم لکا نیہ ہوکی ےت ان شیع یھ بر 

کرنے سے معلوم ہوا سے ىہ ش٠‏ سے ھراداند رکید خیاکاایک پور اعالم ے٠‏ ای اتی ط رح جن یح فا قی “رت با کی دضیانا 


عالم مرادے: کت لق خ7 تمما سور *۴۱:۵۳) 2 عنقریب چم ا نکو اتی نغا نیا ںآفاق یس بھی دکھائیں کے اوران 

سے لس میں بھی“ لس میں وو قرام قو یں شال ہیں ج نکااشرکسی نہکسی کل می انسائی عزائم ءاعمال اور ا کی سی دجمد پر 

ٹڑڑتاہے۔ دو سرے الفاظا مں ا لس عبارت مہے تمامذ ہنی اور لی فا ادۂ ۶ تو سے جد یادزاقلا بکآنازدل دداغ 

اورڈ من داد راک سے ایک اندروثٰی تپر گی گی شحل میس ہہوجاے جوا یمان دایقان ءافکار واج ماساتء تحصورات اور زند گی کے عمزام گی 

ضررۓع بن لح لکی ور تیگ ری کرک ی سے۔ بی ووصلا دے مس سے عروع وترقی کے سوتے بیھوت ہیں۔ فردہو یا تو موہ 

ا پنے الات اور اععمال بھی کے ذر بیج بلنر یی بابق٘ے 2 کنار ہوکی ہے۔ مولانا مر ۶ون 22م گول ال سے ار 
ول نین اندانز یس لوں :یا نکیاے 


خدان ےآ کک اس قو مکی حالت یں بی 
نہ ہج سکوخیا لآپ ابق عالت کے بل کا 


مت مسلمہ کے عالات پر نظ رڈا لیے باپاککتتان کے تصرف صدیی سے زان کے شب وروزکا تج زیہ مکی" صاف نظ رآا ےکہ ہیروٹی 
وشنو ںکی رییشہ دوانیوں اور ش رانگینزیو ںکواگ رک لکل ےکا موق ملاے فذدواسی اندرو یزور کی وجہ سے۔ خ ال کیج قلب و نظ رکا 

فہاداورائرروان(ا لس پا پاڑے نکی اصلاع جے اخ رصصورت عال ٹش کور یکا مکان معر وم ے۔ ری 

اتی سے ام تک نغا اہ کا ول من نہیں بلاشبہ فظا مکی اصلاح موب بھی ہے اور ہگزی بھی مین ام کا تحمول اسی 
وقت یکن ےجب کانتط ہآنمازاور تحور وم رکزدولو ںکی اصلاع اما نک یآ بیار کی اور انف راد اوراچتا گی تک کا حول اور ا خلا یقکی 


بہار ہو۔ 


مرپی تہذیب نے تتبد بی اورانقلا بکاجو فلسشہ ٹین یکیاے ءا سکاسارا تحار ہیر و نکی الا اور معانشرے+ر بات اور میشت کے 

یج ےجب 2 اسلام شس انقلا بکاداگی ےوہ ”انررون* ی اصلا سے شر وہ وکرفر دادر (5810868) ظام 
معاشر ودونو ںکی عمل قب ماہبی تکرد یتاسے اور اس طر پوارے ظا مکی تبد یا بب ہو اہے۔اسلام اما گی ذزن گی کے پگاکواس 
سے بھی ز یاد خطرناک سیچھتنا سے جس کااظہار مخرب 25 کافس ایاجاتاے ان اسلا ماد عو اورجار ناس پر شا ےن 


کی زی فلا صن انی زف گی ےنور ون ٹکو خی یکر نے ہے یں ہوستی۔اڑسی صورت میس برای نت سن ےروپ دھا دک 
طرح طر نکی خی شکوں میں ظاہر ہوثی ر ہقی سے اور مر بڑہتا چا جاناہے۔اتتا گی بگاڑکی اصلاںکار اس بھی ن سکی اصلاچ یکی 
وادتی سے گزرتاہے۔ بی دوکنہ ہے جے نہ کجھ پل ےکی وجہ سے ہف ری تبذیب کے می رداراور ع سیل یادوں پر زگ یک تقر 
پوکے دا گی براہرتاربکیوں دی یس ماک ٹو ال مار ر ہے ہیں اور انساغیت کے مصائٗب او رآلام مک ہو کانام یں لئے عالم ریر ےک 


ڈعونڈڑنے والاستارو ںکی گزرگاہو ںکا 
اپنے افکا رکید ای سن رکرتہ کا 
جس نے سور جکی شعاعو ںک گر فا رکیا 


زن رگ کی شب تار یک ح رکرنہ کا 


اضیاے اسلائ کی جدوجہد اور ت کیک اسلائی 


دیس صدییااپنے بہت سے بت اور فی پپلوئؤو کی وجہ سے پا دی جال ۓگی لیکن عالم اسلام کے نول نظ رسے دو لو ہڑئی ایت کے 
ھائل ہیں 


ا صدریکاآنازاےے عالات میں ہواکہ تق پاپ ری مسلمرد میا مفر استعار کے چنگل می ںگر فزا تی اور مفربی تیزیب سے مر ٭ 

بردارا ز تم میس بنا ت ےکہ اب پھیشہ کے لے دید ٹیا تقایخ ر ہیں گے۔ ناس صدی کے اخخا مک مخربی استعارکاسورح 

ج2 برآخمروب ہ وگیاے اور خوداس تیب کے لن سے اےے الییے لنضادات اور حواداثزو نما ہو ےء جن کے یی میس الس تفری کا 
ُعبئی 2 نم انم ا سک وی نج فی و ورقل گی اس یی ںگوکی کے پوراہونے کے نجار نظ رآ نے کے 


2 0 00" 


ج شا نا کی ہآشیاند ٹن گاء ناپایرار ہ گا 


دوصررکی طرف عالم اسلا مکو مرپی استعا رکا رد چا کک کے دوبار وھالھی سای ومھا ش یف رھ رن ےکا مو تع ملا۔احیاکی اس بیو ری ٭ 
طز کی صن نکر بای اور الاٹی جڑ یس ان د بی تح ریو ںکی دجو تکی مرہوان منت ہیں جو سقویا خلافت ماش کے ببحعداسلا گید ما کے 
لف مموں, تصوحییت سے مال عر اود ہ تیم میں نزو نما ہوگیں ء اور یی نکاہرف منہارج نیو کی کے مطابق دویحاض یش دی نکی 
اقامت اوران سکی اصلاح کے ذر بی ےآفا نکی تیر وے اور نہ صر ف امت مسلمہ بلکنہ و ری انساضی تکو نی زن رگ اور مانظام دیناے۔ 
اسلا مکی اس د عو تکو تح رکیپ اسسلا ٹی اس لے ہکہاک کہ صدبیوں کے جمودکو وک اسلا مک پچ رای رع ایک دعوت اور پیا مکی شحل 
میں بی یکیکیاے جس طرں سر ور عاللم مم محصفی صلی اوندعلیہ و سح او رپ کے خانماے در اشدین اور صحا کرام نے یی یکا تھا۔ قول 
زل اہم آ خی ءا دکیار ضااوراس کے وین کے قیا مکوہردوسربی مصصلحت پر الب رکھنااورفرو کے مگرو نظرراور سرت واخلاقی ے 
ےکر معانشرے کے ہ رہ رپچ ہل کی اصلا ا کا رف ادر مز ان ہے۔ مہ ایک جع ہگ ردعوت سے جم سکا مقر زندگی کے ہر شیے می ال 
ایما نکی قیادت یں ء شربیعت کے مطاق الام کے ظا عدل وصلا کا قیام ہے۔اس تح کیک نے دم ود یی تف لن اور مر ہب و 
ساس تک دوئی کے چالانہ تصورا کو چک یااور ش رلیعت کے زفاذاور اس ئی علومت کے قا مکی جد وج دکی۔ لیکن نظا مکی را 
بی جدوجہد مخرپی مال پر نی بللہ خلص اسلائی نہ سے ج سک جنڑ یں ایمانء عل صاع ءانفرادی اوراا گی تق اور دعوت ال اش 
یش چذوست ہیں۔ قانوان اور نظ مکی اتصلاح ۷اس ہم گی رجد وج دکا ایک لاز ھی حصہ ہے ءاور یہ ال ل کہ انا گی زن دگ کی اصلاح کے 
یی انل بک عم ل ععمل نی ہو سکتا لان نظا مکی تبد بی ایک وس تر تید پچ یکاحصہ ہے ءا سے ہہ فک را سکاکوکی وو ونڑیں۔ 


اما زندگی کی اصلااوراسلائی عکومت کے قیام پر زوردی ےکی بفیادیی وجہ یہ ےک ہگ شنہ ٭٭٠سال‏ اسلائی تار اوہ نظ رددور 
سے جب اسسلام اور مت اسلا می قوت واقڑارے حروم ہو 02 گرفترقار زیڈ یٹ گی جو امت گیارہپارہوسال 
کک ایک ای طاقت ربی دو ما مغخلوب اور لوم ہموگئی۔ الا خر ۱۹۳۴ء میس غلاضتِ عم کی عُیل سے ود عالھی سیا یفن سے 
معدو مکرد یگئی_ فطرکی طورپر جو ےزین ل یگئی ہوا کی باز اف تکو خی جددجہدجش ایک م رکز یی اہعیت حاصل ہو چاہیے می اور 
ین گی میش جہاں خلاداشع گیا تھااسے بر ےکی ضرور تکو نمایا ںکر اد ربھار ناو ق تکی ضرورت ھھی_ 


بجی وج ےکہ اسلائی ترییات کے پر ومگرام می ام تکی سیا یآزاد ی اور متواز لن قو تک اسلائی تی رکوابیت حاصل ہوئی لیکن 

اسلاٹی ترییا تکا یہ پر دگرام الیک وس ترپہ و گرا مکاحصہ سے جو فردکی اصلاح محانشر ےکی تی فو خی کی قوف ںکی نشم بنلدی, نی 

صا قیادت اوراسلائی بفیادوں پر زن گی کے تام شعو کی تق رسے عیارت ہے۔ یی مج پسیامی اسسلام “ کاک ویر وپ نیس ؛اسلام 

کی اصمل دعو تکودور حاضر کے ناظ می صی سجھوتے او رصسی مراہست کے خی میک رن ےکی ابی ککو ضس ہے۔ان تح رجات کے 

اختیازییکردا رکو بے اخ ران پر فنکیز نیج وانصاف ےر وگردالی اوردور حاض ربیل دعوت وت بی تکی مسا گی اوران کے تتاضو ںکو 
کیکتنے میں اکا می سے۔ 


جس طرں ڈاکٹ ایم مر یت ضيکوددی دواد تاے جو مر کا داواکر کے اور وئی مق بات جو کے ج نک یی ہوءاسی طرح 
2 کات اس لائی نے بھی ان پہلووں کو جا اک رکیاے جھ نظ ول ے او مل بامعدوم ہو گے تے_ 


ہارے یں نظ رو ری انسافیزن رگ یکی تنیقی اصلاح و فلا ہے۔ نہ محد ود معنوں میس می جماعت یں ء جس کی ول نچ بیاں صرف 
اناد و فی اورروعانی ذاخلاقی مسماکل ے متحلق ہوں اوراشا گی زم گی کے ناو پگاڑی اشرافظداز ہز ےکی گل یکومشت شک جار جس 
کے دائ کف رخ سے نار رج ہاور نہ ان معتنول میں سای جماعحت بی ہیں سی ص رکرو ںکاہرفہر حعال مل اقتدارکی غلام 
گردشو ںکک رساکی ہو۔ چپ رے کے پارےدی نکی کے یر داد ہیں جرد ا ای ا و راک مل نظ عدل 
کی شکل میں تما نفا بھی چابتاہے۔ ہم ٹس پا ہدایت و فلا کے اشن ہیں دواشخا او رقکروہو کی دو ستی اور شمتی سے با تر ہے۔ 
مم دک ا کے اف 2 بھی پیل تے نہآرج ہیں۔ فی احققت ہم ای ود کی توم کہ و کیا ایت کے می خواوہیں 7 
وہ تام عناصر 0 و کچ طور یرنہ 29 وم وج۳ تن تو رکر یٹ ہیں, مان کے لیے بھی این ذ کن 
ےکس یگوھ میں خر خوادی کے سواکو گی یز ہہ نیل رکھت۔ ہم الد بن امخبححۃ(دبین خی خواہی ہے کی ہدایت پر عم لکرت ہیں۔ 


با رگید وت 


جس طر ہار ید عوت ایک اصول انقلا بک دعوت ہے ءاسی رح ہمار یکن مکش بھی یک اصو کش شش ہے۔دعوت وش 

مس کے اس سار ےکام سے چماراا صل مطلوب خد ابر ست ء خداکیار ضادی کے طالب اور ہے لوت انسانو ںکو تا کر ہا کو من مکر نا 

اور ریت در ےکراجاے اسلام کےکام بیس لگا زاہے جواپے ذائی مفاد سے شع نظ رک کے بے لوٹی کے سا تی مت اور اصلا امت 

کا شی ف تفہ سراضجام دے گگیں۔ اور جن کے ذر بیج ایک طرف چم عوا مکی جے ہنی اوراغلاقَی شود ورام مک مکی او رد وسر ی 

رف سیا ی نظام اور معا تی ذاز ات وا ساا ہی تحصورات کے ڈجاۓچے میں ال پ0 ۶ رو و 
ان بذزیادی یو ںکو ٹیل ار رکھنا جا ہے۔ 


سب سے لے ذبنوں بی اس بل تکوسناز وک رن ےکی ضرورت ‏ ےکہ دود عو کیا سے جس سکی طرف جماععت اسلائی پاکنتائن اپے اہی 
ون اور بی مت مل ہکوہ اور لا خر بواری انساضی تکوبلاٹی ہے ؟ ا کید عوت ن سی شخفصی کی طرف ے اوریرعسی مخفص وص 
ممل کی طرف۔ا ںاد عوت صرف ایک الل کی عبلات اور اس کے رصو کی روگ گید حوت ہے یہ ایر اس کید عوت سے 
جم سکی رف تھام انا کرام نے انساضی کو ہلا با ور جم سکاآخر کی ضمونہاسوٗ شم کیاکی صورت میس ہمارے سام ہے بد ای 
زن دک یکو1 خر تک یکا میالی کے تا "رن کید عوت ہے ۔ مہ دبین ک ےم جزیااخلاقی کے ایک پاچند پل و کی یں پور دن اور 
ری زن دگ یکو خزالددلا ئن کے رنک )شی رک دی ےکیادعوت ے۔بہ مسچراور میرال نار زارء خانقاوادر جہادء بد رسہ اد رکادد با 
0-"""ھ"ە۳""ھ0 7 وف اور شیع نار کو ایک لڑ کی بی پہ ونے اور ایک ھم لوط ماد زن رگا ی کے نا قابل تیم جزابنانے 


و کو ریت ےب 


بجی وہک سے جے اپنے اورپ اۓ دونوں ہی تب کرد ہیں اور تح مکی ھ ججا تکواپنے اپنے ذائی ذوقی کے مطا بی نہ پک کن سی 
فان گت ہیں۔ ”سای الام“ ”را تق سے انخراف اور الک سلف سے فرار کے شعن د لے جانے گت ہیں۔ ان قا مکمرم 
فرمائیوں پر دعوت اسلائی کے عیبر دارو ںکارو صل مخماصمانہ تی ہو ناجا ہے بل ری خوداحتتسالی کے سا تج اباقیاد عو ت اور اس کے 


ت١‎ 


ساٹ ےآ کے اورز پالن حال سے غلط )0٥۵[(‏ ہہ پھاوؤ ںکی خلصانہ بابک اور وفاداکیککار وی اخقیا رک ناچاہیے الہک مالیہ 
اندنجیو ںکی تردیر ہو سے_ 


:ان دجو تکاخلاصہ جماعحت اسلا ھی کے م ےس نے دعحوت اسسلائی اور اس کے مطالمبات شی ول بیا نکیاے 
بکہ ھم بن گان خد کو الوم اور جو پپیلے سے مسلمان ہیں ا نکو با فصو ادف کی بن دک کید عوت دیت ہیں۔ ا۔ 


کہ جو شف بھی اسلام قو لکر نے یاائ ںکو مات کادعوکیاورانظہا رکرےء ا لکو ہم دعوت دتت کہ ددا تی زن گی سے ۲۔ 
منافقت اور تنا نف لکوخار حر اورجب وہ مسلرائع سے پان اے و عفلئص مسلامائن بن اود الام کے رمتک نا رت فک یک رگ 
ہہ جائۓے۔ 
کہ زندگ یکافظام جآ باظل پر سنتوں اور فساق وفا کی ر مائی ٹیس چگی ر پاے ءاور معا ملا تد خیاکی زم مکارج خداکے باخیوں ٣<‏ 


ہے 
۶ 


کے اح ین ہے مد عوت د نے ڈی ںکہ اسے بد لاجائے اور ر ہنمائی وامامت. نظری اور می دونوں عینیتوں ےہ مو نیشن 


9 7 


:انس د عو کو جمامعت ا سلا ھی کے دستور بی اس ط رب بیال ننمکیاگیماے 


“۰ِ_ 


اقامت دیع سے متقصودوبن ک ےکی خماصس ج ےکی اققامت نی ہے بلکمہ پچورے وی نکی اتقامت ے ‏ خواوا سکا تلق ا نفراد مین ن کی 
سے ہو یااتا گیا زنر 7 هه٭*َھ.ھ2 و زکوےڑ ے ہو ٣شت‏ و معاشثرت او رت ن دسیاست ے ءاسلا مکا اکوئی حص بھی 

غیر ضروری نیس ہے پور ےکا پورااسلام ضر درگی ہے۔ ایک موم نکاکام می ےکہ اس اپارے اسلا مکوکسی ورپ انیم کے بغیر 

2 0لم وت ادگ ایقی ذات سے سے ہر وشن کر کل کی نما مک نا 

چاہیے اور جس ج ےکا قام اجتمائی جدوجہد کے خی میں ہو سابل اما کو لک اس کے لیے ھا عتی لشم اور سج یکا ہما مک ناجا ہیے۔ 

اگ رجہ موم نکااصل ٢‏ ۷ / 0" فلاج ہے مگراس مق کا ول اس کے بغی رمک ن نہیں ےک 
دٹیائیش خداکے وی نیکو قائ مک ےک یکو شن کی جاے_ اس لیے موم ن کا تھی نصب الین اتقامت وین اور تق نصب اشن وہ 

رضاے ای سے جواقامت وین ای سی کے مت میک خا 02 


دحوت وت بت کا ہرف 


فرداور معا شر ےکی اصلا اور بل خر انقلاب قیادت اور اسسلا ہی نظام عد لد مساوات کے قیا مکامہکام ب کیک وقت دوجپتول سے مسائی 
کامتتا شی ہے۔ ابی اصلا ‏ ایک دو مم ےکی اصلاع ءاور نظاع زنر کاو ثوت واقتزار یا اصلاع ایک شی او بروچر 
کے یفخ اد رہل ہیں جو ایک دوصر ےکی تل کا باحث ہدوت یں مہ الگ الک د نیا کن ا تقاضا ےکہ ہرفرد 
کو ہرد حوت دک جا ۓکہ دواپنے ر بکو پان :اس سے کیے ہو ۓ عہد(کمہ طیبہ کے نقاضو ںکو جن اورپ راک رن ےک یکول 
کرے۔ ابق ءاپنے خاندانءابلی او عیال اورائ محل ہک اصلا ںک یکو شن کر ءاوپلھ کے قمام بنلد و ںکتک یی اور یں ہن دک کید عوت 
دے وہیں اس با تکی ضرورت ےک اہقا گی زمد گی کے نظام اور مرکا تکواسلائیزن گی ے قیاماورفروغ کے لیے استعا لکیا 
جاے۔ تما اتا گی توتوں اور تحصوعییت سے ر یاست کے وس الکو ءا یما نک یآ بیار کیہ صافثیت کے فرورغ ءنوادی کے نا اور 
مروف کے قیام کے لے استعا لکیاجائے۔ دو صرے الفاظطا یس ء ایک طرف گخوداہ ےکو بداو ک یکو شش ہوذدوسری طرف اجقاجی 
اول اور یاست کے وسائلءادام کے نفاذاور دگیء تلم اور خیان کے استیصال کے لیے استعال ہوں ہمہ دای ز ین پر خداکی 
ری پیاری ہو کے اور ا کا ناونع جار کی وسار کی ہد کے می دونو کا ایک دوس ہے اون رک سان 
کا تعن یں بلکنہ ىہ دوجڑواں پھا توں کی رب ہیںء جا اک ار شاد نو ے (0 / 1006م) کبس یاوہ 


اسلام اور علومت ور یاست دوبڑوا لپھا گڈیں۔دونوں میں ےک و کی ایک دوسرے کے یی ردرست یں ہو ستا۔ یں اسسلا مکی مال 
ایک نمار تک ے اور عکوم تگو با سک کہپان ہے۔ جس عمار تک طیادنہ ہو دہ گر جائی سے اور جم سکاکو ٹیک ہبان نہ ہو وولوٹ لیا 


آ کی سب سے بڑئی ضرورت کی ےکہ اسلا مکی یہ ماد ت اپنے ارکا نکی بذیادیر معاشرے میں کم ہہواور حکومت ور یاست ا 
کی با یکی ذ مہ داد کی م شر انداز شش اداکرے۔ 


اصلابفردومتا شر واور اصلاج عکومت اور انقلاب قیادت ایک بی جد وجہدر کے دویپبلواور مھاذ ہیں اور ہر مماذابقی لہ ام اوردورے 
ماذک و تقزیت د ین والا ےد عو ت وتربی تکا پرفب دوٹوں ما ہیں ۔ "سی ای ککو بھی نظ رانداز خی سکیا اسنا عوائی اصلاب اور 


قبیت جماعحت اہ لا ھی کے ا تہ لکاتواہی اہم ہل سے جناانقلاب قیادت اورانسڑا بی حکوم تکا ام۔ 


مولا زاس ابوالا ھی مودددگی نے ۱۹۵۱ء یش لاہ شل کے جو چیار ثیات شی کیے او ربچ رے ۱۹۵ء یس ج نکو جماح تک پا نت 
حورقرارد اگیاتھاء اتی ںآ کیک برا تکی سحکمت می بیس م رک زی ایت حاصمل ہے۔ مولا نام رحوم کے اللفاظ یل ام سکیا کے بڑے 
بڑے شے اور پہلوىہ ہیں مج نکیجز ٌ ددحوت وتقربیت کے جوانے سے ضروری معلوم ہو لی ہے اکلہ پرف اور ون می کوک ابہام تہ 


رے۔ 


:ہپ یگوشہ :مم ا یگوے میں کا رکنان جماعح تکو ہکا ممرنے ہوں کے ٭ 


عوام الناس پکواطاعت خداور سو کی رف بلاناءان می خر تک پالزئ ‏ ںکااحساس پبدا کر نا نکو می او رچھلاگ یکی تی نکرناء ا۔ 
اورا تی اسلام کی میقت تمجھانا۔ 


عام لو وت کواان ضرور کی ٰاحکامد یا تۓ پت رکنش کا انام ضلائو نکی بی زی کی کے کے ےنا اگزرے۔ ۲ 
ماج دکیحالت درس تک نااورالنیٰ کے لیے مسلم معانشرے میں ھ رکز ابحیت پی راک نال وک 


ٹر بی ہکھڑو کور وکنااورلوگو ںکوا سکنش نشی کے ننقتصانا تکاا ماس لان ۲۔ 


اخلاقیکوشہ :اغلا یگو میں جار ےکا رکنو ںکو تی نکاموں پر اپتی قوت صر فک ناب وگی :ا۔ خنڈاگردیکاانید اد ٣ب‏ رفک کے ٭ 


فواتش کاانہرا ‏ ررشوت وخیان تک روک تقام۔ 


ان اغمراخش کے لیے یم صرف اخلائی تلقین بی پراکنناکر نا نیس چاتے بللہ معاششرے کے ش ریف عنا ص رکون نر ائوں کے متقا لے یں 
مض مک کے ان کے خلاف می جد جج ربج کر ناجاتے ہیں۔ 


: مجاش یکو شہ : موا ج یکو میں ہع مک وشن شک یں مھ ےکہ تین طر نکی خدمات اضجام دی جاتیں ٭ 
و فرش اقنباء 027 رھ گی اصول پر پستیوں کے نریوںء * غخناجوں اور معنرورو لکی با قاعدداعان تکااتظام اور 5 
آن لاکن ولاف تل نے لٹا 


سرکاری ححامول اورادارول سے عام لوگو کی شکا یا ترک رانااوردادرسی حاص لکرنے کے ۶۳ - پُِ و گت 
ان کی راد 


توق ٤ے‏ لگن ینایک عددآ پک رن ےکاجذ ہہ ید اکر ناتاکہ خودخی مل تل یکر یی ففنتید نکی عفا کی اور زا تو نکد رخ اور َ۳ 
جفظائن صح تکاتظا مک اکر یں۔ 


یی ا 5 
بسنتوں اور مھلوں شی دارالطا لے عکھولنا_ _١‏ 
لیم پانخاں کے م رکز اخ کنل ۲۔- 


جہاں چہاں بستیوں کے لوگ الی ذ را فراہ مکمرنے چپ تیار ہوں و پاں ایے پر اح ری اسکول تقا ‏ مک نان ٹیس سرکارىی نصاب ا 
پڑھاہے کے سا تھسا تد نی الیم وتریبیتکااتظام بھی ہو 


جماعحعت ا لائی کے سامئے ایک مل اسلا گی ممتاشرے اورر یا تکا قیام ہے اور اس کےا رگن الس جدوچجہد کووقت کا ہم ین یخ 
کھت ہیں۔ دددلو ںکی گرب یکوابمان اوراعتماب سے منو رکم کے پپورے معاشر ےکوادڈداور اس کے رسول صلی الد علیہ وص مکی 
ش رلیعت سے منو رک نات ہیں ادرسارکیاجدوجہد ال کے ببھروسے پرال مین کے سا تج اضجام دےر ہے ہی کر 


جان چود تر شدء چہاں دجگر شود 


-(انسا نکی ان( سوج ء نعل نظظ) سج سست میں برل جائے ونس کے لیے مہ جہاں تھی بل جاتاے ) 


+٭٭ جم*) 


مق رن عام 77 


مار گی دمحو تکام مکز یکن ق رآ نکی طرفدعوت اور ق ران کے ذر یی زند گی اود نام زم گی کو بد ل ےکاعزم اور سی ہے۔ا دا 
اس وقت گی مطالع قرآن کے ہز اروں علق مردول اور خوا ٹین یس تام یں ہرف ہہس ےکہ پارے ملک میں مردوں اور عورتؤں 
کے ہے بہت بی تعداد می قرآن مکل قائم سے جاکیں۔ ہگ ہکی قی ٹیس مکھ کی فک ہوہمسو رادان لد مدر ےکا ہج رہ ہکان 
یلاس ہو درخ تک بچھانوں ہو پاکید نی پا لک یآسائیشی .اس تق رآنن کے اا جیا مطال کاگبدارابنادیاججاے۔ تما تحار ہو یامڑا 
شئح__ بر ملمان مرداور عورت ادرچے اور جوا نک وآماد ہکا جال ۓکہ قرآن ے اپنار شنہ جوڑےءاس کے می ومفہو مک و جھے اور 
اسےاپنے لیے ماب ہدایت بنانے۔ یو :۰- تھٹوں اور تی ی فو ںکاابنامقام ے اوران 7“ - ,+70۸ مین 4 

ان نوہ گرا مکاا صل متقصہرہ رمسلا کو خوادوہ ا بافنۃ ہو یانانخواند ہہت رآلن پالک کوٹ ھن اوراس کے تر تے اور مطہوم سے 


سك ى 


وا یت پیداکر ن ےکا مو تی ف راپ مکرناے۔ مسلمائو ںکی طاق تکااصصل ص رچشمہ ال کیک یکناب ہے۔جب بھی مسلمانوں نے ا کا 
داسن تھامااور اس کے پیا مکو ل ےک رھ دوبلندبیوں اورکیامیاویوں سے شادکام ہو ءاورجب بھی وواس سے خال ہو ے وولینتیوں 
اورڈاتو ںکی طم ف لڑحک گے ب سے سانسان 029 سھمنے فا ا :ان العدایرنح بھزااکستاب اقواما بضع ہآخ رین 
( مس لم) بے لک اللدا لکتاب (قرآن پا ک )کی ہدوت بہت کی تو مو لکو ہام عر ورپ بات ۓےگاادر اس ل(کو تر کفکر نے کے 
سپاععتث دوصرو ںکوڑ سو اکرد ےگا“ اقبال نے اس مقیق تکواپنے خاع انلداز یس بی نکیا ے 


گرن بی خو اہی مسااں ز بیشن 
غیت من جزبق آہں زلینن 


.( اگ رتو مسلمان بن کر زندور جناجاپتاے نوہ زن گی ممالن| کے از ان نھیں) 


ور 
ازی کآ ینی مسلماں زنواست 
پر حلت زق رآں زنر واست 
۔(رمسل مان ود تآ ین بی سے زن دے +اود و ہآ شی ن ق رآن ے) 

ا سکاب پر شبات نے دوراول میس مسلمافو ںکواو شر اس گ مکنا ہکیاتھااور مچ یآ بھی ا نکی قسمت بل عیتی ہے اور ایس ذات 
اور تی سے کا لکراماصت اور قیادت کے ا صلی منقاما تپ اف کرک سے ھامام ماک نے : ز٦‏ الا ملا اوھ ءاس 
اک و عفان لن تک زی کت کک رک ےرت شی کن کے اون داوف 

ا پائی __اورودے ران 
یا تھی طرح بج لیناچاہ کہ ہعاری دعوت میس ھ رکز یت صرف ق رآ نکی لعل مکوحا صل ہے۔ق رآ نکو باتر رٹ ہناور اس کے 

پا مک جھنااور سمچھاناہ زا کا مکوانجام دسینے کے لیے ہر لع بیس اہیے افرا کو نیا رکر ناج صحمت کے سا جح دق رآان بڑھ +- 
کر و مطلب تمچھا میں دعوت وت یت کے اس پہ گرا مکا مقص رق مآ نے اس رش کو مہو اکر :ااور 
اس کے ذر یج قو مکورو جن کی راو دکھا :درا یھ وی ہ گی من لکی مر فگامز نکر اے۔ 


گھراور خانا نک اصلا 


مھ کی اصلا اور خان انی کے ایون فکواتقامت دی نکی جد وجہ رکابنیادئی مم رکز ناد ینا جار کی اس دجو تکادوسراہرف ے۔ خاندا نک یا 

لیک ریا رشن تییں۔ یہ تیذی بکاگبواراا درا سلائی سی رت دکر دا رکی تقی ر کے لیے سب سے ایی او رکارفرماادار دے۔ 

ش رلعت مل ایماغیات اور عبادات کے بعد سب سے زیادہہدایت جس ادارے کے بارے میں سے وہ نماندالن بیکاادارہ سے نود 
الشمراء۱۳٢:٢۲)‏ ”( بیس اے ھی اپنےقریب ) 0 حضوریا ککودعوت کے باب مس ہدایت فر ما یگ کہ ون شی کک لایع 
تربنر حتدارو ںکوڈرا“ _ ققام مسلمانوں سے فرمایاگیا:آ ا سے ا تم 
۷ ٗ سے لاگو جو ایمان لا ہو با اپ ےآ پکواور اپنے ائل و عیا لکواس اگ سے جس کاایندعن انسان اورپ رہوں گے“ 
فور اگرم کا سلھمنےان دالم ین کو جن تک بشارت دیج ابق اولاد "ا تری تکرر اور جھامانت ا کو سی ائی سےا 

کات اپورالور ااداگرویں۔ 


آج خاندا نکا نظام اندروٹی ٹوٹ لوٹ اورلست ور بت کے شک سے دوچارے۔ایتوں 7 جمالت اور غحفلت اور پیر وید شمموں 7 
ہمہ 2" مار دوٹوںل کے باعحث دن و تی ب کاب حصار انی کی زدٹیں ے۔اس قلح کی طفاخظت اور اسے ایک پار پچ راسلائی قو تکاشخ 
بناناہماری اویل ضر ورت ہے ۔ اس سال میں مسلمان خو ا تی ننکاکر دار سب سے ز یلد دا یت رکا ے_ یکن واج اکردار ای وقت ادا 
رحتی ہیں جب جهمان کے حقوق و رے اد اکم او زان تن اکن رن کیاکی کووی متام دب اور موا 0 اب مکمریس چھ 
الراوراس کے رسو لکومطلوب ہے قربان عق وط لک یمک شش کے سلسلل میس مردوں اور عور فو ںکوایک بیز بان یل خطاب 
کرتاہے اود ایک ہی ذ مہ دا کواداک رن ےکی طرف بلاتاے ہ لیکن ہم قرآ نکاس پک رکو خفلت سے مظراندا کرد نے ہیں۔ 


جماععت اسسلائی کے دعوت وتربیت کے پر وگراہموں می ںگھ کی اصلا اب خانلدان او رایت ٹیش دعوئیککام اور مردول اور خوش نکا 
دعوت ال ا شر ءام پالمعروف اور بھی عن الک کی ذ مہ دارو ںکواپنے ان دائر ول ؛صلا عیتول اور امکانات کے مطا لی اضجام دی ےکو 
خحوصی اہی تد یگ ے۔ 


اسلائی اقراریہ جن نعلیمکافروںغ 


اسیو گرا مکا ایک اور ڑا بھم حصہ پا مقصید اور اسسڑا اتد الپ می لی م پر و ے۔ موچودہ تو وت ان کر ور یو کیاے 
کہ ال خی رامھی او را سلا می قد اپ من تی مکی فرابھ یکا ظام ہی شی می لک بی اور ایک السی من ک گی ھی ححریک ب پاکری کہ ایک 
قباول صحت مند فظام وجو دی ںآ جائے۔ سس رکار کیا مر اصلا کے امکانا تک س ےک جو نے کے بحعد انس کے سواکوٹی پا نی کہ 
کیک ومات کے بی خواو ویر سے تبد ب یکا تظار کے اخیراپقی ضس لکول کک لپبیٹ سے بیانے اور اپنے دن و تقاط تکی حفاظت کے لیے 
یطٗ مر وی استعار کے دور یں اپنے وں کے لیے خودکوشاں ہو ۓ تے ءاسی رح اندر وی استعارے کے 
لیے خودجی اپنے ہو ںکی مب نعل مکا دوس تکم ہیں۔ اعت اسملا ھی نے ”اس ہی نظامت تعلیم “ حا مکی ہے اور صو بای اور متقائی سن 
پوت فک فیادپرہ اخ دکفاات کے ظام کے ححت ملک بھ میس ایج بی ادارو ںکاریک جال کچھاد ینا چاہقی ہے الحمد دہ یج چنر 
ہرسو ںک یکو شش سےکئی ہزاری اک ری اور سیلنٹر ری اسکول اس منص بے کے ححت تفم ہو ئے مہیں۔ انس سال ان میس مال رخواہ 
اضان ےک یکو شش شک جائ ۓگ اود جن شروں یا یہات ٹیل جیا یےے ادارے مقائم نڑیس ہو کے ہیں دہاش متقائ یآ گیا ور ابی خر کے 
اون سے جلراز مدان کے قیا مکا جا مکیا جا ےگا ممیں نین ےکہ جس طط رح مغرب کے ز یراٹرنشڑجی تح یک نے بقل اقبال 
ون میں مسلمان قو مکی خودب یکوڈا لکراپننے مغیر مطلب انداز یس بگاڑن ےک یکو شن ںکیاء یہ اصلا گی تح یک اس قوم 
کی خی نسلو ںکوپچھراسلا مکاسا ہی اود پاسپان بنانے ٹیش اٹ مکرداداد ار ےکی اوران شماءاد ول پل ائیں گے تعلیم ری جانے سے 


لوم کی تتابی ایی پہتحقیدہ ا سکی ناکامیو ںکااعتماب اور جنظام تل مک مطالبہ ای طرح جا کیار ہ کمن ابق مد دآپ کے 
شت ایک مباول نظام بھی ا مکر اض روریی ہے 


اصلاحں معانش اور تبد بی قیاات 
مواشرے سے لم وطخیان, فننہ وفماداور فا شی اور ع پا یکا ات :اور مظلو مکی رداور ظا مکا ہت رو کے اور لم کے خلاف فضابنانے 
ک یکو شش بھی جھار کید عو تکاابیک حصہ ہے۔لوگوں میں اپنے تقو قاحسا پداکر نا ور خقن کے ل ‏ ہکھٹرے ہو نےکیاداعب اور 
حوصلہ پیر اکر نا ھی ت ری اسلائی کے اہداف میں سے ہے د عو کی اور تر تی پھ وگرام ٹیس معاش رر ےکی اصلاع کے ان پپہا نو یکو 


مایا کر ناودرا کا مکواضحام دسینے کے لیے مردانککار تا کر :ایک مکل کان ضر درکیکام ہے۔ سای بیداد اور ہر مین او 

صاف سخ ری قیادتابھار نا تھی ای جددجہدکاایک حصرے۔ محر سمازی+ راب ہکمیٹیو کا قیام اور مالس مشاور کی تک لک متصر 

بھی ہے۔بہ تھا مکام اس لے انا مد یا با ےکہ الیک ناد دن اور خادم عوام فیا مھ کے اور بالا خ مل کک زم مکیاران لوگوں 

کے ہاتھوں می ں۲ کے جوش اور فمادءرحوت اور نین ء تقو یکی پاملی اور تلم وا ستصا ل کاغاضہ 23 ×0" ےشن تر ا تلاح 
کوعام کر کھیں_ 


ود تھ یک ے جودعوت وت ببیت کے ذر یج معاشر ےکی اصلاب ءاور تن مردا کا رکی تار یکر ےکی ناکہ اجشا قی جد وجہد کے 
ذرہیے فی قیادت بر ود ےکا رآ ے اور اج تی نظام مشمول نظام علومت تر مل ہوا گرا سکافقط ہآ ما زا پقی اصلاح ے ونظام ااصلا 
ا متوئح ہدرف ے۔اور یہ ساراکام سی یىی منفعت کے لے یں بلللہ صرف ایل کید ضاء الد کے بثدوں 
گیض تاور نز کی امیا لی کے لیے اضحام دیاجاناچاہے۔ا اریہ سا اکام اور سار ینک ود وص ےار بھھروے پرانمحام دی 


جا اع شاءاللدلاز اش مرآورہوگی۔ 


تلق با کی مض شی 


نے جماعت اسلائ کی دعوت کے چند ہاو وںپ نگ کی ہے ہر منصوہ جھ لاخ کا یک رز وہہ اگراصس پہ مل نہ ہواوداس کے 
اپرائ گوعا اصع ای لن ری ںا پان کیاشہ لاد کی جائۓے۔ تما رید عحوت اور ہمارے مصورے 01 کا میال یکا تار الد 
قا کی استعانت کے بح دکا رکنوں کے جز ہے حفت اور تر یھ ہے۔مہ جہاں ایک طر ف ”ابق اصلا ںآپ' کا نہ ےہ وہیں 
0 ۶َٰٰٰٰٰ9 9 ۶ ۰,"۰۶۹ھ بھی ہے۔ ا سکا مکواضجام د ہین کے لیے مکی ضرورت 
اپ پھصروساء اس کے دامس نکو تھا مناءاس سے اپنار شینہ مب وط او رگ راکر ناءا سکیا رضاکی طلب اور اا کی عحب تک خوابی ہے۔ باب 


جز ہہ متخبوطا اور صاسب ہہ وگااتناذحی رر اسنتہآسان ہو جا ۓگا_ 


انس کے سے دو مم کی اضرور ت خ داي آپ 0 کو ور شیع ہولودوس و لآورو شض سے 24 گی ا 1 
یش برودت او رگ میں عرارت تہ ہونودوسرو ںکو ٹنرک اگ ری سے ا ہے ای نذا گی ال ہوتاے 
وو سب سے کی ابیماان لانے والا اور سب سے پیل اطا عت کمرنے والا ہوا ہے (ازااول الو ین وانااول| مین کا ررکن اور قیادتء 
ر یہہ م یش سے ہ رای ککوء سب سے پلے خودا تیافک رک کی چا اوراس ہز بے س ےکی چا ےک ال تال میں خو میا د بین پہ 
قائ رن اور اس راوہت تیر ےکی ت فی نے اور اس لاکن بنا ۓےکہ جم شہادمت ح کاخ تن کماح اد اک یں 
ان کے لیے اخلاص کے ات ات عم 7 اپ شن اخلاقیءجز و خعدرمتہ جقوق اویل کے ساتھ تقو ق الحبادکی پا 
دارگیء میم انی کل جدوجد کا شش اور قر بای کے جز ہے کی ضرورت ے۔ 


اس سے کیا الیک اور ہڑی اہم ضر ورك ان دا رن سک نل کمردوصرو ںکک یناہ عوام می ںاُٹھنا ڈٹمناء ان سے محبت اور پھر رد یکا 
معاط کر ناءان کے نک درد بیس ش یک ہو :اوران کے دلو ںکو مو ولیناہے۔۔ ہیام خو درا خودپہنلدی اور ا سای بت رکی کے سا 
امام نہیں پاسکنا۔ ضورپاک صلی ال علیہ وسلم کے اسود مبارک بس جہاں ہیں خوش الات کا عی تین خمونہ نا ( وک کی 

کم ۹۸:۳ ءوہی ںآپ کے خمام محاملات ءد من سجن اور مل جول یس بلاکاامکمار اور عام انسانٰوں جیمی سا دگی او کے . 
رممنساری پائی اتی ہے۔ حضرت عائشہگ یکوادی ہے :آفرماتے تھے :اجکی کرش انز میں اسی طرح انتا ہوں جس طرح 

خدااریک عام بندواٹفنائیٹھا ےج بآ پا نے حضرت معا ون خی لکو یر ن ھا والی اکر بھیپا تو نحیحعت فر مکی :ا ش زم میک 
ِء لوگوں کے سا تھ مت راخلاقی سے ہیی ںآنا۔ 

آپ کے شود عوت اوردوم و ںکی ظثر گی کیاکی حالت بہ تی اک خوذاللد تال لن تاب مم ںآپ ج201"‌2ء22ئ0 انا سے 7-یھ] 
ااشمر۳۶:٢۲)۔آ‏ پکی ٥‏ شایدقماس رشن ا کک وک نان 3ں 
گناو رگگر مند یکا عال تھاک ہپ نے فرمایاکہ لوگ پروانو کا طر نگ می مگرد سے ہیں اور مم ا نک یک رپڑ پل کر ال عک وگ 


ای ا ا ا کی اختتظام تک بی کیفیت شی اک ہآزمالیشی کے مخت ترین مر سے پ بھی بر لاف مایا: خداکی فک ! 

اگ تم میرے دائیں ہاتح پہ سور اور بائیں بات یر چاند بھی اکر رکد دوچ ربھی میس بن ہکیار بکیادعوت سے قطماباز خی ںنآئو لگا 

اس راو ٹیس ای جان پودرے سلتاہوں یسا یاخنیا یی ںکر سا اصاس ذ مہ دا رک کاب حال تھاکہ جب گے بارے بخار کے عالم 

ڈازاز تم می ںآرام کے چند لحات کے دورا نآپ کو میا طلاع می ے کہ الیک تقافلہملمہ کے باہ رآ سے نود عوت اہانے کے لیے بے 

تاب ہو جات ہیں او رظ ھکھٹرے ہوتے ہہیں۔ صحاب ہک ا م کے ہی ںآ پ شھکے ہو ئے بہیںء طورینت بھی ناساز سے ءااس دق تآمرام فرمالیس 

وذ پکاار شاد یی ہوتاے نک کیا شی ری جیں ون متا فلررخصت ہو جاے او رکیاپتا الیک مر ای جلاداآجاۓے۔آ رام اور اسر ادت 2ک 
اکر دتتے میں اوردعحوت بٹانے کے لیے روانہ ہو جات ہیں مکی ال علیہ و 1: 


دوت تربیت اور اتمامت دی نکاکام اخجام دسینے کے لیے اس عزم راس جمتءائس ولا نے ٣اس‏ اما ذ مہ دا کی اور اس میاہر ےکی 
رما تج 
گمہ بلعلدہ تخن ول نوازہ جال ُہ سوز 
پچی ہے رخت سف رم رکارواں کے لیے 
لہ بی بات و قی ہےکہ صرف می رکا واں تی کے کے وک ل کس ارک لیے کی رخت سغرے۔ 


لْ 


نان کر ےرہ ور ںہ 


1 ترما می و یئ وآ ما لب داز مخت 
اےاود اجھ جم صکی ال علیہ وسعم کے دی نکی مدداوراسے نٹ مرن ےکی سج یک ری ء وا نکی مدد فرماادر “میں ان یل سےکردوے۔ 


اور جو مھ صلی الد علیہ و صکم کے دی نکور سو اکر ےہ فوا کور سواکمردے اور ہ مکو ان کے سا ت ہک نا۔ 


اے ال !گی ج یکو تی دکھاادر ا سکی پیر و کی نیقی عنلیت فرماءاور اف لکو ال دکھااور اس سے سی ہکی فذ نیقی عنایت فرما۔ 
ان